ساحل کی ریت چاند کے منہ پر نہ ڈالیے ہمت جو ہو تو بحر سے موتی نکالیے خوشبو کی طرح تھام کے چلیے ہوا کا ہاتھ مثل غبار بو…
دعا کا پھول پڑا رہ گیا ہے تھالی میں ہوا اسے بھی اڑا دے نہ بے خیالی میں وہ مجھ سے مانگ رہا ہے مجھے مری خاطر میں خود کو…
گلیاں اداس کھڑکیاں چپ در کھلے ہوئے اکتا گیا ہوں میں تو یہ سب دیکھتے ہوئے ہاتھوں پہ لکھ کے چومتا رہتا ہوں اس کا نام مد…
Social Plugin