Ticker

6/recent/ticker-posts

Galian Udaas Khirkiyan Chup Dar Khulay Hue – Nazeer Qaisar Ki Khoobsurat Urdu Ghazal

 


گلیاں اداس کھڑکیاں چپ در کھلے ہوئے

اکتا گیا ہوں میں تو یہ سب دیکھتے ہوئے

ہاتھوں پہ لکھ کے چومتا رہتا ہوں اس کا نام

مدت گزر گئی ہے جسے خط لکھے ہوئے

خوشبو و رنگ آب و ہوا ساز و خامشی

کیا قافلے ہیں دشت خلا میں رکے ہوئے

کچھ پوچھتی ہیں پیڑوں کی سرسبز ٹہنیاں

کچھ کہہ رہے ہیں راہ میں پتے گرے ہوئے

ہاتھوں میں لے کے چلتا ہوں آنکھوں کی مشعلیں

ہر سمت ہیں فضاؤں میں چہرے بنے ہوئے

محتاج ابر و باد ہوئے اہل خاکداں

ہر چند اس زمیں میں تھے دریا چھپے ہوئے

اے ماورائے فکر اب آواز دے کہ ہم

خود سے بچھڑ گئے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے

Post a Comment

0 Comments