و ہ کیسا شعبدہ گر تھا جو مصنوعی ستاروں اور نقلی سورجوں کی اک جھلک دکھلا کے میرے سادہ دل لوگوں کی آنکھوں کے دیئے ہونٹو…
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے خوابیدہ…
درد کی آگ بُجھا دو کہ ابھی وقت نہیں زخمِ دِل جاگ سکے، نشترِ غم رقص کرے جو بھی سانسوں میں گُھلا ہے اسےعُریاں نہ کرو چُ…
یہ تری آنکھوں کی بے زاری یہ لہجے کی تھکن کتنے اندیشوں کی حامل ہیں یہ دل کی دھڑکنیں پیشتر اس کے کہ ہم پھر سے مخالف سمت…
کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے اتنا تو کڑا سفر نہیں تھا وہ چار قدم کا فاصلہ کیا پھر راہ سے بے خبر نہیں تھا لیکن یہ تھکن یہ ل…
Social Plugin