بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے نگھرے کیا ہوئے کہ لو…
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں تم کیا گئے کہ روٹھ…
میں ادنیٰ، وہ دربارِ اعلیٰ بہت ہے مگر حاضری کی تمنا بہت ہے غلامِ غلامانِ سلطانِ دیں ہوں یہ نسبت بہت ہے، یہ رشتہ بہت ہ…
کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے مقدر میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل مدینے، نجف، کربلا جا چک…
یہ تو صحرا ہے یہاں ٹھنڈی ہوا کب آئے گی یار، تم کو سانس لینے کی ادا کب آئے گی کوچ کرنا چاہتے ہیں پھر مری بستی کے لوگ پھ…
پھر لطف خلش دینے لگی یاد کسی کی پھر بھول گئی یاد کو بیداد کسی کی پھر رنج و الم کو ہے کسی کا یہ اشارہ اجڑی ہوئی بستی کر…
ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میداں تو میر لشکر نوری حضوری تیرے سپاہی کچھ قدر اپنی تو نے…
مری نظر میں خاک تیرے آئنے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی مشین ہیں تما…
اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیے عشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے می…
Social Plugin