ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے چھلکے چھلکے ساغر چھلکے دل کے تقاضے ان کے اشارے بوجھل بوجھل ہلکے ہلکے دیکھو …
مِری زَمِیں پہ جو مَوسم کبھی نہیں آیا یہی بُہت ہے کہ، اُس پر مجھے یقیں آیا مَیں خود ہی ہِجْر کا موسم، مَیں خود وِصال …
شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی کیوں ورنہ اِنتظار بھی ہے، اِضطِرار بھی دھیان آ گیا تھا، مرگِ دِلِ نامُراد کا مِ…
Social Plugin