اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے خوابیدہ …
اتنی مدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم پھرتے ہو اتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ…
شکل اس کی تھی دلبروں جیسی خو تھی لیکن ستمگروں جیسی اس کے لب تھے سکوت کے دریا اس کی آنکھیں سخنوروں جیسی میری پرواز ِجا…
Social Plugin