مری نظر میں خاک تیرے آئنے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی مشین ہیں تما…
مری زباں پہ نئے ذائقوں کے پھل لکھ دے مرے خدا تو مرے نام اک غزل لکھ دے میں چاہتا ہوں یہ دنیا وہ چاہتا ہے مجھے یہ مسئلہ…
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی اجالوں کی پریاں نہانے لگیں ندی گنگنائی خیالات کی میں چپ تھا تو …
میرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے یہ چراغ پھر بھی چراغ ہے کہیں تیرا ہاتھ جلا نہ دے نئے دور کے نئے خواب ہ…
Social Plugin