بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے نگھرے کیا ہوئے کہ لو…
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں تم کیا گئے کہ روٹھ…
میں ادنیٰ، وہ دربارِ اعلیٰ بہت ہے مگر حاضری کی تمنا بہت ہے غلامِ غلامانِ سلطانِ دیں ہوں یہ نسبت بہت ہے، یہ رشتہ بہت ہ…
کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے مقدر میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل مدینے، نجف، کربلا جا چک…
یہ تو صحرا ہے یہاں ٹھنڈی ہوا کب آئے گی یار، تم کو سانس لینے کی ادا کب آئے گی کوچ کرنا چاہتے ہیں پھر مری بستی کے لوگ پھ…
Social Plugin