دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں تم کیا گئے کہ روٹھ…
میں ادنیٰ، وہ دربارِ اعلیٰ بہت ہے مگر حاضری کی تمنا بہت ہے غلامِ غلامانِ سلطانِ دیں ہوں یہ نسبت بہت ہے، یہ رشتہ بہت ہ…
دل کی ہر بات دھیان میں گزری ساری ہستی گمان میں گزری ازل داستاں سے اس دم تک جو بھی گزری اک آن میں گزری جسم مدت تری عقوبت…
یہ تو صحرا ہے یہاں ٹھنڈی ہوا کب آئے گی یار، تم کو سانس لینے کی ادا کب آئے گی کوچ کرنا چاہتے ہیں پھر مری بستی کے لوگ پھ…
پھر لطف خلش دینے لگی یاد کسی کی پھر بھول گئی یاد کو بیداد کسی کی پھر رنج و الم کو ہے کسی کا یہ اشارہ اجڑی ہوئی بستی کر…
Social Plugin