دل کی ہر بات دھیان میں گزری ساری ہستی گمان میں گزری ازل داستاں سے اس دم تک جو بھی گزری اک آن میں گزری جسم مدت تری عقوبت…
پھر لطف خلش دینے لگی یاد کسی کی پھر بھول گئی یاد کو بیداد کسی کی پھر رنج و الم کو ہے کسی کا یہ اشارہ اجڑی ہوئی بستی کر…
یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے بزم اس شخص کی ہے تو جسے حاصل ہو جائے ناخدا اے مری کشتی کے چلانے والے لطف تو جب ہ…
مری نظر میں خاک تیرے آئنے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی مشین ہیں تما…
اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیے عشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے می…
Social Plugin