کیسے نظر جھکاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
کس گوشہ چین پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
آنکھوں کو ملتا جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
قسمت بلند پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
قصے تجھے خیالوں میں شب بھر سناؤں میں
پر بول بھی نہ پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
مشکل ہے پھر بھی جی تو رہا ہوں ترے بنا
خوشیوں سے مر نہ جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
ہر گام تیرا چرچا ہمارے نگر میں ہے
کیا کیا سنوں سناؤں تجھے دیکھنے کے بعد
کہتے ہیں تجھ کو دیکھیں تو ہو جاتے ہیں ترے
ایمان کس پہ لاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
بھولا نہیں ہوں گرچہ میں لمحہ بھی ہجر کا
خود کو نہ بھول جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
یوں تو ہر اک زمیں میں قصیدے کہے ترے
چل پھر قلم اٹھاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
غوریؔ تو لا شعور ہے مجھ کو دکھے تو میں
فن اپنا آزماؤں تجھے دیکھنے کے بعد
.png)
.png)
0 Comments